
محراب پور کے صحافی عزیز میمن کے قتل کیس میں گرفتارنذیر سہتو نے 164کے بیان کے تحت اقبال جرم کرلیا ، مرکزی ملزم نذیر سہتو کو اعترافی بیان کے بعد جیل بھیج دیاگیا جبکہ دو ملزمان کو عدالت نے ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
گذشتہ روز صحافی عزیز میمن قتل کیس میں پولیس نے نواب شاہ، نوشہروفیروز اور خیرپور میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران ملزم نذیر سہتو سمیت پندرہ افراد کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا ، ان میں سے کچھ ملزمان کا ڈی این اے مقتول کے ناخن سے ملنے والے ڈی این اے سے میچ کرگیا تھا۔
اس سے قبل گزشتہ ماہ 10 اپریل کو رضوانہ خانزادہ محمد حسین اور ڈاکٹر علی محمد پروفیسر محمد اکبر کی جانب سے صحافی عزیز میمن کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کی گئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا مقتول کے ناخن سے ایک سے زائد افراد کے اجزا ملے، انسانی اجزا ملنے سے پتہ چلتا ہے کہ مقتول نے ملزمان سے مزاحمت کی۔
یاد رہے کہ رواں سال فروری میں صوبہ سندھ کے ضلع نوشہروفیروز کے شہر محراب پور میں سندھی چینل کے رپورٹر عزیز میمن کی لاش نہر سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد قتل کے شبے میں ان کے ساتھی کیمرا مین سمیت 2 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔
No comments:
Post a Comment